نئی دہلی،4؍ نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) رافیل ڈیل کو لے کر اب ایک اور افسوسناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ایک طرف اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ پی ایم مودی کی قیادت میں ہوئے نئے سودے میں سرکاری کمپنی ایچ اے ایل کو نظر انداز کیا گیا اور اس کی جگہ انل امبانی کی کمپنی کو فائدہ پہنچایا گیا۔جبکہ یو پی اے کے دور میں ہونے والی ڈیل میں ایچ ایل اے بھی شامل تھی۔ابھی ایچ اے ایل نے کہا ہے کہ انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ گزشتہ رافیل سودے کو بی جے پی کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت منسوخ کر چکی ہے اور نئے سرے سے رافیل کے لئے دسالٹ ایوی ایشن سے سودا کیا گیا ہے۔ایچ ایل اے کے چیئرمین آر مادھون نے کہاکہ ہمیں گزشتہ سودے کو منسوخ کئے جانے کی معلومات نہیں تھی۔ہم رافیل پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اب ہم اس سودے کا حصہ نہیں ہیں ۔آپ کو بتا دیں کہ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے فرانس کی لڑاکا طیارے بنانے والی کمپنی دسالٹ ایوی ایشن کے ساتھ 125 رافیل طیاروں کا سودا کیا تھا۔جس سے 108 طیاروں کی تعمیر ایچ ایل اے کے ذریعہ کیا جانا تھا اور 18 ہوائی جہاز کی تعمیر فرانس میں کر کے اسے ہندوستان لانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔یہ طیارہ ہندوستانی فضائیہ کے لئے خریدے جانے تھے۔ حالانکہ یہ سودا آگے نہیں بڑھا۔اس کے بعد نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے سال 2015 میں فرانس کی حکومت کے ساتھ دوسرا سودا کر لیا، جس میں 125 کے بجائے صرف 36 رافیل طیاروں کی خریداری کی گئی اور ان سب کو فرانس میں ہی بناکر اسے ہندوستان لایا جائے گا۔اس کی متوقع قیمت 54 ارب ڈالر ہے۔غور طلب ہے کہ کانگریس نے گزشتہ دنوں ایک ویڈیو بھی اشتراک کیا تھا۔کانگریس کی طرف سے جاری اس ویڈیو میں رافیل بنانے والی کمپنی ڈسا لٹ کے سی ای او ایچ ایل اے کے ساتھ معاہدے کی بات کر رہے ہیں۔یہ ویڈیو وزیر اعظم مودی کے فرانس دورے سے سے 17 دن پہلے کا بتایا جا رہا ہے۔اسی دورے میں ڈیل پر دستخط ہوئی ، لیکن ایچ اے ایل کو ڈیل میں جگہ نہیں ملی۔یہ ویڈیو 25 مارچ 2015 کا ہے۔